بنگلورو:27؍/ جولائی(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج یہ بات دہرائی کہ ریاست میں انتخابات کے بعد ایک بار پھر کانگریس حکومت ہی برسر اقتدار آئے گی اور کرناٹک میں بی جے پی کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ ہاویری میں سرکاری پروگراموں میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل ہبلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کا جو خواب بی جے پی دیکھ رہی ہے وہ کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ جس طرح بی جے پی ملک کو کانگریس سے آزاد کرانے کا نعرہ لگارہی ہے اب انہوں نے ٹھان لی ہے کہ کرناٹک کو بی جے پی سے آزاد کرایا جائے اور اسے ریاست میں کہیں بھی سیاسی طور پر پروان چڑھنے کا موقع نہ ملے۔ لنگایت طبقے کو علیحدہ مذہب کا درجہ دینے کے متعلق ایک سوال پر سدرامیا نے کہاکہ اب تک اس سلسلے میں انہیں کسی بھی طرف سے درخواست نہیں ملی ہے، اگر درخواست ملی تو اسے مرکزی حکومت کے حوالے کیاجائے گا کہ وہ اس سلسلے میں فیصلہ کرے۔ درخواست ملنے پر ریاستی حکومت کا کردار محض سفارشی نوعیت کا ہے فیصلہ نہیں کرسکتی۔ اس سلسلے میں مخالفت اور موافقت میں مختلف حلقوں سے رائے سامنے آرہی ہیں ، اسی لئے اپنے طور پر وہ اس معاملے میں کوئی موقف پیش نہیں کریں گے۔ علیحدہ صوبائی پرچم کے متعلق ایک سوال کے جواب میں سدرامیا نے کہاکہ پچھلے دور اقتدار میں ہی صوبائی پرچم کی مخالفت کرکے بی جے پی نے اپنی اصلیت سب پر ظاہر کردی ہے۔ ریاست کی زبان ، زمین اور مفادات سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے ریاست کی الگ پہچان کیلئے صوبائی پرچم کی وکالت کی ہے۔ اس سے قومی سا لمیت یا یکجہتی کو کسی طرح کاخطرہ نہیں ہے۔ بی جے پی اس معاملے پر نیچ سطح کی سیاست پر اتر آئی ہے۔ بہار میں جنتادل (یو) راشٹریہ جنتادل اور کانگریس اتحاد ٹوٹ جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدرامیا نے بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو موقع پرست قرار دیا اور کہاکہ راشٹریہ جنتادل کے ساتھ اگر نتیش کمار اتحاد نہ کرتے تو کبھی اقتدار پر نہ آتے ، لیکن اب انہوں نے اسے فراموش کرتے ہوئے اپنی موقع پرستی کا کھلا ثبوت دیا ہے۔